Home

Results 51 - 60 of 20,728 for وارد دیگر. Search took 4.609 seconds.  
Sort by date/Sort by relevance
وأشار برنامج الأغذية العالمي إلى أن التغذية وسوء التغذية يمثلان حالة طارئة ومشاكل هيكلية في السودان. وصرّحت ماريان وارد، القائمة بأعمال مدير برنامج الأغذية العالمي في السودان، بأنه مع استمرار موسم العجاف حتى الربع الأخير من 2021، يظل برنامج الأغذية العالمي يعاني من نقص بقيمة 48 مليون دولار لتلبية الاحتياجات على مدى الأشهر الستة المقبلة. (...) وعلاوة على ذلك، زادت السلة الغذائية الأساسية للسودان بنسبة 220 في المائة مقارنة بالعام الذي سبقه". وأوضحت السيّدة وارد كيف قام برنامج الأغذية العالمي بتوسيع برامج التغذية المدرسية.
Language:English
Score: 1215811.1 - https://news.un.org/ar/story/2021/06/1077442
Data Source: un
نتیجه جستجو خشونت مسلحانه قابل دسترس در: فارسي، فارسي English اطلاعیه خبری 09/08/2019 3758 کیف چیده شده در محوطه سازمان ملل بیانگر وضعیت وخیم مرگ ومیر کودکان در مناقشات طی سال 2018 است در حالیکه در بسیاری از نقاط جهان فصل مدرسه بار دیگر آغاز می‌شود، یونیسف خواهان محافظت بیشتر از جان کودکانی است که در مناطق تحت مناقشه زندگی می‌کنند.
Language:English
Score: 1213038 - https://www.unicef.org/iran/%D...%D9%84%D8%AD%D8%A7%D9%86%D9%87
Data Source: un
نتیجه جستجو درگیری مسلحانه قابل دسترس در: فارسي، فارسي English اطلاعیه خبری 09/08/2019 3758 کیف چیده شده در محوطه سازمان ملل بیانگر وضعیت وخیم مرگ ومیر کودکان در مناقشات طی سال 2018 است در حالیکه در بسیاری از نقاط جهان فصل مدرسه بار دیگر آغاز می‌شود، یونیسف خواهان محافظت بیشتر از جان کودکانی است که در مناطق تحت مناقشه زندگی می‌کنند.
Language:English
Score: 1213038 - https://www.unicef.org/iran/%D...%D9%84%D8%AD%D8%A7%D9%86%D9%87
Data Source: un
واژه از دست دادن را در مورد چیزهایی به کار می‌بریم که جبران پذیر و قابل برگشت هستند، ازقبیل ریتم و روال زندگی قبل از شیوع این همه‌گیری.» از طرف دیگر، سوگ چیزی است که ماندگارتر است، به عنوان مثال مرگ عزیزان. و همینجاست که کار روانشناسی هم متفاوت می‌شود، زیرا علاوه بر پذیرفتن این که آن شخص از دست رفته و فوت شده، قسمت سخت ماجرا پذیرفتن این است که  او دیگر بر نمی‌گردد.»   احساسات کودکان در مورد سوگ و از دست دادن چقدر با بزرگسالان متفاوت است؟ دکتر دامور معتقد است که این موضوع تا حد زیادی بستگی به سن کودک دارد. (...) پدربزرگت فوت شده. یعنی این که بدنش دیگر از کار افتاده و ما دیگر نمی‌توانیم او را ببینیم.»
Language:English
Score: 1197875.8 - https://www.unicef.org/iran/%D...%D8%AD%D9%85%D8%A7%DB%8C%D8%AA
Data Source: un
سرش را به یک طرف و سپس به طرف دیگر می چرخاند. با بازوها و پاهایش حرکات ریز انجام می دهد. (...) حرکت یک اسباب بازی را از یک طرف به طرف دیگر با چشمانش دنبال می کند. صداهای آ، ِا، آی، اُ، او را تلفظ می کند. (...) انتقال اشیاء از یک دست به دست دیگر را آغاز می کند. اسباب بازی ها را در دهانش می گذارد.
Language:English
Score: 1197430.7 - https://www.unicef.org/serbia/...children%201%E2%80%936_web.pdf
Data Source: un
مطالب این بروشور، تنها دیدگاه های نویسنده )ها( را بازتاب می دهند و مسئولیت آنها فقط با او/آنها است؛ این بروشور نمی تواند به عنوان بازتاب دهنده دیدگاه های کمیسیون اروپا و یا آژانس اجرایی مصرف کنندگان، سالمت، کشاورزی و غذا و یا هر نهاد دیگر ی از اطالعات یتی را درباره استفاده احتمال اتحادیه اروپا در نظر گرفته شود.
Language:English
Score: 1190960.2 - https://www.unicef.org/serbia/...si_Health%20Navigation_web.pdf
Data Source: un
تلاش کریں کلوز/ بندکریں Main navigation Urdu language Take action Stories Research and reports What we do یونیسیف تلاش کریں Fulltext search Max پیج آپ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووِڈ- 19 کے موضوع پر اپنے بچوں سے کیسے بات کرسکتے ہیں؟ بچوں کو محفوظ رکھنے اور انہیں پریشانی سے بچانے کے لئے 8 مفید مشورے یونیسف UNICEF/Pakistan/Asad Zaidi میں دستیاب ہے: English Urdu اس وقت کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووِڈ- 19 کے بارے میں جو کچھ کہا جارہا ہے ، اسے سن کر پریشانی طاری ہوجانا نہایت آسان ہے۔ اس بات کو  بخوبی سمجھا جاسکتا ہے کہ آپ کے بچے بھی یہ پریشانی محسوس کررہے ہونگے۔ بچوں کو وہ سب سمجھنے میں مشکل پیش آسکتی ہے جو وہ انٹرنیٹ، ٹیوی اور آس پاس موجود  لوگوں سے سن رہے ہیں۔ اس لئے وہ جلد پریشانی، ذہنی دباؤ اور اُداسی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ تاہم اپنے بچوں سے واضح اور حوصلہ افزا  گفتگو کرنے سے انہیں نہ صرف صورتِ حال کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ دوسروں کی مدد کے قابل بھی بنایا جاسکتا ہے۔ 1 ۔ سوال کریں اور غور سے سنیں بچوں کو بیماری کی صورتِ حال پر بات کرنے کا موقع دے کر گفتگو کا آغاز کریں۔ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ وہ پہلے سے کیا کچھ جانتے ہیں اور اپنی بات کا آغاز ان کی معلومات کی مدد سے کریں۔ اگر بچے بہت چھوٹے ہیں اور انہوں نے وبا کے بارے میں کچھ نہیں سن رکھا تو انہیں مسئلے کے بارے میں بتانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بس انہیں حفظانِ صحت کے بہتر طریقوں کے بارے میں بتائیں۔ اس بات کا یقین کرلیں کہ آپ محفوظ ماحول میں ہیں اور بچے کو آزادی سے بات کرنے کا موقع دیں۔ ڈرائنگ، کہانیوں اور اس طرح کی دیگر سرگرمیوں کی مدد سے گفتگو کا باآسانی آغاز کیا جاسکتا ہے۔ بچوں سے اس موضوع پر بات چیت کے سلسلے کا سب سے اہم قدم یہ ہے کہ حقیقی خدشات کو نظر انداز اور انہیں گھٹا کر پیش نہ کریں۔ بچوں کے جذبات تسلیم کریں اور انہیں بتائیں کہ ایسی باتوں پر خوفزدہ ہونا فطری بات ہے۔ بچوں کو ثبوت دیں کہ آپ ان کی بات پوری توجہ سے سن رہے ہیں۔ اس بات کا یقین دلایں کہ وہ آپ سے یا اسکول میں اپنے اساتذہ سے جب بھی چاہیں کھل کر بات کرسکتے ہیں۔ 2 ۔ ایمانداری کا مظاہرہ کریں۔ بچوں کا خیال رکھنے والے انداز میں وضاحت کریں۔ بچوں کو درست معلومات حاصل کرنے کا حق حاصل ہے کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے اور یہ بالغ افراد کا فرض ہے کہ وہ بچوں کو اس انداز میں معلومات فراہم کریں جو ان کے لئے پریشانی یا تکلیف کا باعث نہ ہو۔ ایسی زبان اور الفاظ کا استعمال کریں جو بچوں کے لئے موذوں ہو۔ ان کے ردِ عمل پر نظر رکھیں اور ان کی پریشانی کی سطح کو دیکھتے ہوئے حساسیت کا مظاہرہ کریں۔ اگر آپ ان کے سوالات کا جواب نہیں دے سکتے تو محض اندازہ لگا کر کوئی جواب دینے کی کوشش نہ کریں بلکہ اسے مل جل کر جواب تلاش کرنے کا موقع سمجھ کر اس  کا استعمال کریں۔ یونیسف اور عالمی ادارہ صحت کی ویب سائٹس اس  موضوع پر معلومات کا بہترین ذریعہ ہیں۔ بچوں کو بتائیں کہ انٹرنیٹ پر موجود تمام معلومات درست نہیں اس لئے ہمیں صرف ماہرین پر اعتماد کرنا چاہیے۔ 3 ۔ بچوں کو سکھائیں کہ وہ خود کو اور اپنے دوستوں کو کیسے بچا سکتے ہیں۔ بچوں کو کورونا وائرس اور دیگر بیماریوں سے بچانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کی باقاعدہ ہاتھ دھونے پر حوصلہ افزائی کی جائے ۔  اس کے علاوہ آپ بچوں کے سامنے عملی مظاہرہ کرسکتے ہیں کہ انہیں کس طرح اپنی کہنی کو موڑ کر کھانسنا اور چھینکنا ہے ۔ ان کے سامنے وضاحت کریں کہ جن لوگوں میں بیماری کی علامات ظاہر ہوں ان سے دُور رہنا بہتر ہے ۔ انہیں یہ بھی بتائیں کہ جب بھی وہ بخار یا کھانسی کی شکایت محسوس کریں یا پھر انہیں سانس لینے میں دشواری ہو تو وہ فوراً آپ کو اطلاع دیں۔ 4 ۔ بچوں کا حوصلہ بڑھائیں جب ہم ٹی وی پر یا آن لائن پریشان کن مناظر دیکھ رہے ہوں ، تو ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم چاروں طرف سے بحرانی صورتِ حال میں گھرے ہوئے ہیں۔ بچے عام طور پر ٹی وی کی سکرین پر دکھائے جانے والے مناظر اور اپنی ذاتی زندگی میں فرق نہیں کرسکتے اور وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ خطرات ان کے سر پر منڈلا رہے ہیں۔ جب بھی ممکن ہو،  آپ اپنے بچوں کی توجہ کھیل اور آرام کی جانبمبذول کراکر ان کا دھیان بٹا سکتے ہیں۔ جہاں تک ممکن ہو بچوں کا حوصلہ بڑھانے کے عمل میں باقاعدگی کا مظاہرہ کریں۔ اگر آپ کے علاقے میں وبا پھیل چکی ہے تو اپنے بچوں کو بتائیں کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ اس بیماری کا شکار نہ ہوں کیونکہ بہت سے لوگ جو کورونا وائرس کے حملے کا شکار ہوتے ہیں وہ بیمار نہیں ہوتے اور حکومت سب کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے میں کوشاں ہے۔ اگر آپ کا بچہ طبیعت کی خرابی کی شکایت کررہا ہے تو اسے واضح طور پر   بتائیں کہ گھر پر یا ہسپتال میں رہنا بچوں اور ان کے دوستوں کے لئے محفوظ ہے۔ بچوں کا حوصلہ بڑھائیں کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ سب بعض اوقات بچوں کے لئے مشکل (یہاں تک کہ خوفناک یا بیزار کردینے والا تجربہ ہوگا ) لیکن اس سے حاصل ہونے والے نتائج ہر ایک کی حفاظت کا باعث بنیں گے۔ 5 ۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ کہیں بچوں کو شرمندگی کا سامنا تو نہیں کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد دنیا بھر یہ رپورٹس سامنے آرہی ہیں کہ کچھ لوگوںکو نسلی تعصب کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ لہٰذا اس سلسلے میں خبردار رہنے کی ضرورت ہے کہ کہیں آپ کے بچوں کو ایسے تعصب کا شکار تو نہیں کیا جارہا یہ وہ کسی کو تعصب کا شکار تو نہیں کررہے۔ ان کے سامنے وضاحت کریں کہ کورونا وائرس کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں کوئی کیسا لگتا ہے، اس کا کس علاقے سے تعلق ہے اور وہ کون سی زبان بولتا ہے۔ اگر ااسکول میں بچوں کو تنگ کیا جا رہا ہے تو وہ اس واقعے کے بارے میں اپنے بڑوں کو بتانے سے گریز نہ کریں۔ اپنے بچوں کو بتائیں کہ اسکول میں محفوظ رہنا ہر بچے کا حق ہے۔ بچوں کو ڈرانا دھمکانہ اور شرمندہ کرنا غلط ہے اس لئے ہم میں سے ہر ایک کو کوشش کرنی ہے کہ ہم دوسروں سے محبت کا  بر تاؤ کریں اور مشکل وقت میں ایک دُوسرے کا ساتھ دیں۔ 6 ۔ مدد گار تلاش کریں بچوں کا یہ جاننا ضروری ہے کہ لوگ ایک دوسرے کی مدد کررہے ہیں اور اس دوران محبت اور سخاوت کا مظاہرہ بھی کررہے ہیں۔ بچوں کو ہیلتھ ورکرز، سائنس دانوں اور دیگر لوگوں کی کہانیاں سنائیں جو لوگوں کو بیماری اور وبا سے محفوظ رکھنے کے لئے کام کررہے ہیں۔ بچوں کو یہ جان کر اطمینان محسوس ہوگا کہ کچھ دردمند لوگ ان کی حفاظت کے لئے کام میں مصروف ہیں۔  7 ۔ اپنا خیال رکھیں آپ اپنے بچوں کی صرف اس صورت میں مدد کرسکیں گے جب آپ خود صورتِ حال سے بہتر انداز میں نمٹ رہے ہوں۔ انہیں یہ دیکھ کر حوصلہ ہوگا کہ آپ پرسکون ہیں اور حالات قابو میں ہیں۔ اگر آپ بے چین ہوں یا پریشانی محسوس کررہے ہوں تو کچھ وقت لیں اور اپنا وقت کسی دوسرے خاندان،  دوستوں یا گلی محلے کے ایسے ساتھیوں کے ساتھ گذاریں جن پر آپ بھروسہ کرتے ہوں۔ 8 ۔ گفتگو کے اختتام پر احساس دلائیں کہ آپ ان کا خیال رکھتے ہیں اس بات کا خیال رکھیں کہ بچوں کے ساتھ گفتگو کا اختتام کرتے وقت انہیں پریشانی کی حالت میں نہ چھوڑیں۔ گفتگو ختم کرنے سے قبل ان کی پریشانی کی سطح کا تعین ان کے تاثرات کی مدد سے کریں۔ کیا وہ معمول کے مطابق  گفتگو کررہے ہیں ، کیا ان کی سانسیں تیز تو نہیں ہوگئیں؟ اپنے بچوں کو بتائیں کہ آپ ان کے ساتھ اس موضوع پر مزید بات بھی کرسکتے ہیں۔ انہیں احساس دلائیں کہ آپ ان کا خیال رکھتے ہیں۔ آپ ان کی بات غور سے سنتے ہیں اور جب کبھی وہ پریشانی محسوس کریں ،   آپ سے بات کرسکتے ہیں۔   آپ کے لئے یہ معلومات یونیسف کے کمیونیکشن سپیشلٹ جیکب ہنٹ نے مرتب  کی ہی۔   Footer urdu language Research and reports About us Current vacancies in UNICEF Pakistan Suppliers and service providers UNICEF Home What we do Stories Become a donor Footer secondary Urdu language Contact us Legal Social
Language:English
Score: 1183868 - https://www.unicef.org/pakistan/ur/node/1151
Data Source: un
تلاش کریں کلوز/ بندکریں Main navigation Urdu language Take action Stories Research and reports What we do یونیسیف تلاش کریں Fulltext search Max پریس ریلیز یونیسف نے کووڈ - 19مریضوں کے علاج کے لئے 1.4 ملین امریکی ڈالر مالیت کے زندگی بچانے والے آکسیجن کونسنٹریٹرز حکومت کے سپرد کر دیے۔ 23 اگست 2021 UNICEF/Pakistan اسلام آباد – 23 اگست 2021ء : اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف ) نے آج اسلام آباد میں 14 لاکھ امریکی ڈالرز کی مالیت کے1000 آکسیجن کونسنٹریٹرزاور دیگر متعلقہ لوازمات وزارت قومی صحت (ایم او این ایچ، آر سی) کے سپرد کر دیے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے پاکستان میں یونیسف  کی نمائندہ محترمہ عائدہ گیرما سے کورونا وائرس کے انفیکشن، پیدائش کے بعد دم گھٹنے سے واقع ہونے والی اموات اور پیچیدہ نمونیا میں مبتلا مریضوں کے علاج کے لئے استعمال ہونے والے زندگی بچانے والے طبی آلات وصول کیے۔     ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ حالیہ دور میں وائرس ڈیلٹا  کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اس  کی وجہ سے پاکستان میں کووڈ-19 کی موجودہ لہر کی شدت اور  اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ "یونیسف کی بروقت مدد  کی وجہ سے  صحت کی دیکھ بھال کا  نظام   تمام مریضوں کو بہترین ممکنہ دیکھ بھال فراہم کرنے  میں کامیاب ہوا ہے ۔  ہم یونیسف  کے ساتھ اس  شراکت کو بے حد اہمیت دیتے ہیں کیونکہ ادارہ    وبا کے جوابی اقدامات  کے لئے ہر طرح سے  پاکستان کی  بڑھ چڑھ کر مدد کرتا  رہا ہے ۔  یونیسف  کے حاصل کردہ 1000 آکسیجن کونسنٹریٹرز کی خریداری حکومت کینیڈا کی عالمی شراکت ایکسلریٹر  کے لئے مالی معاونت  دینے والی  سہولت   جانب سے دیے گئے  کردہ فنڈز سے کی گئی تھی۔ یہ آلات وزارتِ صحت کی جانب سے چار صوبوں اور اسلام آباد کے وفاقی علاقوں میں صحت کی 289 سہولیات میں  فراہم کئے جائیں گے۔ پاکستان میں یونیسف  کی نمائندہ عائدہ گیرما نے کہا کہ یونیسف  ملک میں کورونا وائرس کی مسلسل لہروں کے خلاف حکومت پاکستان کی مستقل کوششوں  اور کارکردگی کو سراہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ کووڈ - 19ویکسین یا آکسیجن کونسنٹریٹرزجیسی جان بچانے والی ادویات یا طبی آلات کی خریداری اور فراہمی سمیت دیگر قومی اقدمات کی حمایت کے لیے اپنی حمایت اور مدد  جاری رکھنے کے لئے پُرعزم ہیں۔  انہوں نے زور دیا کہ کووڈ - 19کی چوتھی لہر اور ڈیلٹا کی نئی شکل منظرِ عام پر آنے  سے ملک بھر میں بیماریوں کی شرح میں مزید اضافہ ہوا ہے۔  وزارت صحت کی قیادت میں ہم 18 سال سے زائد عمر کے تمام مردوں اور خواتین کے لئے تیز ترین اور فعال مہم چلا رہے ہیں۔ اس دوران لوگوں کو چاہیے کہ وہ حفاظتی تدابیر مثلا سماجی فاصلے پر سختی سے عمل کرتے ہوئے ویکسین لگوائیں۔  چہرے پر ماسک لگائیں اور  کووڈ -19 کی وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لئے  بار بار صابن سے  ہاتھ دھوئیں۔   تازہ ترین کھیپ سمیت یونیسف  نے گذشتہ بارہ ماہ کے دوران اب تک حکومت پاکستان کو مجموعی طور پر 3065 آکسیجن کونسنٹریٹرزفراہم کیے ہیں۔ اس سے قبل یونیسف  نے اپنے وسائل سے 525  ، ایشیائی ترقیاتی بینک سے حاصل ہونے والے فنڈز سے 220 اور عالمی بینک کی وبائی ایمرجنسی فنڈنگ سے 1320 آکسیجن کونسنٹریٹرز وزارتِ صحت کو فراہم کیے تھے۔ یونیسف  نے پاکستان کو  اب تک کویکس سہولت کی جانب سے کووڈ - 19ویکسین کی 14 ملین سے زائد خوراکیں فراہم کی ہیں اور مزید 11 ملین خوراکیں اگلے ماہ تک فراہم کردی جائیں گی۔    مزید معلومات کے لیے    رابطہ کریں: ساجد شاہ، آفیسر تعلقات عامہ، وزارت صحت۔ ای میل: sajidshahpro@gmail.com، فون: 0301 5103069 اے سمیع ملک.
Language:English
Score: 1177631.5 - https://www.unicef.org/pakista...ease/Urdu/oxygen-concentrators
Data Source: un
Bahareh Yeganehfar SWO قابل دسترس در: فارسي، فارسي English 09 سپتامبر 2020 «واقعاً خوشحالیم که حالا دیگر دستگاه اکسیژن‌سنج انگشتی (پالس‌اکسی‌متر) در این مرکز داریم. (...) ولی حالا با اکسیژن‌سنج‌های انگشتی اهدایی یونیسف، پرستارهای ما اکسیژن خون نوزادان را در کنار تخت‌شان اندازه‌گیری می‌کنند، و دیگر نیازی به جابجا کردن نوزاد نیست. این کار خطر پخش ویروس را هم کمتر می‌کند.»
Language:English
Score: 1177631.5 - https://www.unicef.org/iran/%D...%D8%A7%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86
Data Source: un
این مجموعه لحظات انتقال قلب یک کودک مرگ مغزی شده به کودک دیگر، احساسات متفاوت خانواده اهداء کننده و خانواده گیرنده و نیز بهبود تدریجی کودک دریافت کننده را به تصویر می‌کشد. چهار مجموعه داستان تصویری دیگر از عکاسان خبری رسانه‌های ایرانی درجایگاه دوم تا پنجم این مسابقه قرار گرفتند.
Language:English
Score: 1177631.5 - https://www.unicef.org/iran/%D...D8%B5-%D8%B4%D8%AF%D9%86%D8%AF
Data Source: un